April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

۱۴؍ سال کی عمر میں  میونخ میں  دوستوں کی دعوت پر مسجد کا دورہ اہم موڑ ثابت ہوا، اسی وقت اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی اور اسی سال جنوری میں مارٹینا سے مریم بن گئیں۔

Mary who was formerly Martina. Photo: INN

مریم جو پہلے مارٹینا تھیں۔ تصویر: آئی این این

اسی سال جنوری میں  مشرف بہ اسلام ہونے والی جرمن دوشیزہ مارٹینا اوبرہولزنر جو اب مریم بن چکی ہیں، اپنا پہلا رمضان دوبئی میں گزار رہی ہیں۔ ۲۶؍ سالہ مریم قرآن کریم کے جرمن ترجمہ کا مطالبہ اور ذہنی سکون حاصل کررہی ہیں۔ 
مارکیٹنگ ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرنے والی مریم بتاتی ہیں کہ ’’اپنے لڑکپن میں  بھی اسلام سے میں  ایک گہرا تعلق محسوس کرتی تھی۔ حالانکہ میری پرویش عیسائی گھرانے میں  ہوئی مگرمیں  ہمیشہ اسلامی تعلیمات سے متاثر رہی۔ میں  مہذب کپڑے پہنتی تھی اور اکثر سر پر اسکارف لیا کرتی تھی۔ ‘‘خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنے مشرف بہ اسلام ہونے کے تعلق سے انہوں  نے بتایا کہ ’’تاہم جنوری ۲۰۲۴ء میں  کہیں  جا کر میں  نے اسلام قبول کیا۔ ‘‘ مریم عرف مارٹینا نے  دبئی کے ایک اسلامک سینٹر پہنچ کر کلمہ ٔ شہادت پڑھا۔ اسلام سے ان کی قربت کا سفر ۱۴؍ سال کی عمر میں اس وقت شروع ہوا جب وہ اپنے دوستوں  کی دعوت پر اپنے آبائی شہر میونخ کی ایک مسجد میں  گئیں۔ ان کے مطابق وہاں  جس طرح ان کا خیر مقدم کیا گیا جیسا حسن سلوک ان کے ساتھ کیاگیا، اس نے ان کو بدل کررکھ دیا۔ بعد میں ملازمت کیلئے دبئی میں  ان کے قیام نے انہیں اسلام سے مزید قریب کردیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ دبئی میں ان کا گھرایک مسجد کے سامنے ہے، جہاں  اذان کی آواز بلند ہوتے ہی وہ دوڑ کر اس مسحور کن بالکنی میں   صدار کو سننے کیلئے بالکنی میں پہنچ جاتی تھیں۔ بطور مسلمان اپنی زندگی کے پہلے رمضان میں  مریم اسلامی احکامات پر عمل کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ حجاب کرتی ہیں اور روزے رکھ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں مریم نے پیغام دیا کہ رمضان المبارک صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں صبر اور شکر سکھاتا ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *