April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

کنیڈا کی حکومت نے انٹر نیٹ پر نفرت پھیلانے والے مواد اور فحش مواد کی تشہیر کرنے والوں کے خلاف نیا قانون ترتیب دیا ہے جس کی رو سے جج کو اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو عمر قیدکی سزا دینےکا اختیار ہوگا۔ عوام کی اکثریت کو اس قانون کی حمایت حاصل۔

Justin Trudeau. Photo: INN

جسٹن ٹروڈو۔ تصویر: آئی این این

کنیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا نیا انٹرنیٹ قانون ججوں کو سوشل میڈیا پر آن لائن نفرت پھیلانے والوں کو عمر قید کی سزا دینے کا اختیار دے گا۔ آن لائن ہارمز ایکٹ، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے، کو ووٹرز کی جانب سے `آمرانہ طرز `، خود کو ہلکان کرنے کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ’دی ہینڈ میڈ ٹیل ‘کی مصنفہ مارگریٹ ایٹووڈنے اس بل کو فرانس کے سابق بادشاہوں کی طرف سے شہریوں کو قید کرنے کے شاہی حکم کے مماثل قرار دیا۔ 
 ایٹ ووڈ نے ایکس پر متنبہ کیا کہ ٹروڈو کے اس آمرانہ بل کے سبب بدلہ لینے کے امکانات جھوٹے الزامات، تفکر کو جرائم گرداننے جیسے عوامل میں اضافہ ہوگا۔ لبرل حکومت کی طرف سے گزشتہ ماہ متعارف کرایا جانے والا مجوزہ قانون ججوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر بالغ افراد آن لائن نسل کشی کی وکالت کرتے ہیں تو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، اس سے قبل اس جرم کی زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا تھی۔ اس بل میں آن لائن نفرت کو جان بوجھ کر فروغ دینے پر جیل کی زیادہ سے زیادہ مدت کو دو سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ یقین کرنے کی معقول بنیادیں ہوں کہ مدعا علیہ جرم کا ارتکاب کرے گا تو ایسی صورت میں یہ بل صوبائی جج کو مجرم کی گھر میں نظر بندی اور جرمانہ عائد کرنے کا بھی اختیار دیتا ہے۔ ۔ 
قدامت پسند مصنف اسٹیفن مور نے اس قانون کو ان تمام مطلق العنان، غیر لبرل اور روشن خیالی مخالف قانون سازی میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا قرار دیا جو مغربی دنیا میں کئی دہائیوں میں متعارف کرائے گئے ہیں۔ وزیر انصاف عارف ویرانی، جنہوں نے بل متعارف کرایا، نے کہا کہ ایک باپ کی حیثیت سے میں `ان خطرات سے خوفزدہ تھا جو ہمارے بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ ان کے بچوں کے ساتھ کھیلنے والے کھلونوں کی حفاظت کو منظم کرنے کیلئے قوانین موجود ہیں، لیکن `ہمارے بچوں کے چہروں کے رو برو جو اسکرین ہوتی ہے اس کیلئے کوئی قانون نہیں ہے۔ 
تاہم، ایک نئے سروے کے مطابق، نصف سے بھی کم کنیڈائی عوام کا خیال ہے کہ یہ منصوبے سوشل میڈیا سائٹس کو محفوظ تر بنائیں گے۔ لیگر سروے کے نصف جواب دہندگان نے کہا کہ وہ آزادی اظہار کے تحفظ کیلئے حکومت کے عزائم سے فکر مند ہیں۔ اس کے باوجود اکثریت نے کہا کہ انہوں نے نفرت انگیز تقریر کے جرائم کیلئے سخت سزائیں متعارف کرانے کی تجاویز کی حمایت کی۔ نیشنل پوسٹ کے مطابق، تقریباً ۷۰؍فیصد کنیڈائی عوام کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن صرف ۴۱؍ فیصد نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مجوزہ قانون سازی اس مقصد کو پورا کرے گی۔ 
قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو نقصان دہ مواد کی نمائش کو کم کرنے کیلئے حفاظتی منصوبے بنانے کی ضرورت ہوگی اور پلیٹ فارمز کو ایک بار پوسٹ کرنے کے بعد جنسی مواد کو ہٹانے کیلئے ۲۴؍گھنٹے کا وقت دیا جائے گا جس میں رضامندی کے بغیر شیئر کی جانے والی فحش مواد اور بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر شامل ہیں۔ 
یہ قانون نئے ڈجیٹل سیفٹی ریگولیٹر کو ان پلیٹ فارمز کے خلاف لاکھوں ڈالر مالیت کے جرمانے عائد کرنے کی بھی اجازت دے گا جو قواعد کی تعمیل نہیں کرتے ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *