April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

عہدہ کیلئے۴؍ امیدوار ہیں لیکن صدرپوتن کی فتح تقریباًیقینی ہے، جیت کی صورت میں پوتن پانچویں مرتبہ صدر بنیں گےاور ۲۰۳۰ء تک عہدہ پر برقراررہیں گے۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN

روس کے صدر ولادیمیر پوتن ۔ تصویر : آئی این این

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ملک کے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالا۔ روسی صدارتی محل (کریملن) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پوتن نے ماسکو میں اپنی رہائش گاہ پر ریموٹ الیکٹرانک طریقے سے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ روس میں صدارتی انتخابات اتوار تک جاری رہے۔ ملک میں صدارتی انتخابات پہلی بار تین دنوں تک ہوئے اور تقریباً ایک تہائی اضلاع میں ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے ذریعے عوام نے ووٹنگ کی۔ 
صدارتی عہدہ کیلئے۴؍ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہونے والے انتخابات میں موجودہ صدر ولا دیمیر پوتن متحدہ روس پارٹی کی حمایت کے ساتھ آزاد امیدوار ہیں۔ دیگر امیدواروں میں لیبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین لیونید سولوستکی، کمیونسٹ پارٹی کے نیکولے خریتونوف اور نیو پیپلز پارٹی ولادیسلاو داوانکوف شامل ہیں۔ 
نو منتخب صدر۶؍سال تک اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔ پوتن جن کے منتخب ہونے کا پورا امکان ہے، اگر وہ دوبارہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ۵؍ویں بار روس کے صدر ہوں گے اور ممکنہ طور پر۲۰۳۰ء تک ملک کے صدر کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ 
روس میں اپوزیشن تقریباًختم!
 روس میں ہر وہ اپوزیشن لیڈر جو صدر پوتن کیلئے کسی بھی طرح کا سیاسی خطرہ بن سکتا تھا، وہ یا تو جیل میں ہے یا جلاوطن کردیاگیاہے۔ ملک کے تمام آزاد میڈیا ادارے جو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر سکتے تھے، بند کیے جا چکے ہیں۔ اس وقت۱۴۶؍ ملین آبادی کے اس ملک کے ا نتخابی عمل پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہے۔ 
 تاہم اس کے باوجود گزشتہ ۲؍ برس سے جاری یوکرینی جنگ کی وجہ سے پوری دنیا کی نگاہیں روسی صدارتی انتخابات پر ہیں۔ 
روس میں ووٹر کی اہلیت
 تمام روسی شہری جن کی عمر ۱۸؍ برس یا اس سے زائد ہو اور جو کسی عدالت سے مجرم قرار نہ دیے گئے ہوں، ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق روس اور روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں اس وقت مجموعی طور پر۱۱۲ء۳؍ ملین اہل ووٹر ہیں جب کہ مزید ۱ء۹؍ملین ووٹر بیرون ممالک مقیم ہیں۔ ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ۶۷ء۵؍ فیصد تھا جبکہ مبصرین اور عام افراد نے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی اطلاعات دی تھیں۔ ۲۰۲۱ء کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ ۵۱ء۷؍ فیصد رہا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ روسی صدارتی انتخابات میں آن لائن ووٹنگ کا طریقہ اختیار کیاگیا۔ روس کے۲۷؍ خطوں کے علاوہ۲۰۱۴ء میں غیرقانونی طور پر قبضے میں لیے گئےیوکرینی علاقے کریمیا میں لوگوں نے آن لائن طریقے سے ووٹ ڈالے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *