April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

رپورٹ کے مطابق گوگل نے کمپنی کے کی نوٹ ایڈریس کے دوران ایک انجینئر کو فلسطینیوں کی مزاحمت میں احتجاج کرنے کیلئے معطل کر دیا ہے۔ انجینئر کا کہنا ہے کہ میں نے ایسی ٹیکنالوجی بنانے سے انکار کر دیا ہے جو نسل کشی، نگرانی اور امتیازی سلوک کو طاقت بخشے جبکہ گوگل کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ملازم کو کمپنی کی جانب سے اسپانسر کئے گئے پروگرام میں مداخلت کرنے اورہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے کیلئے معطل کیا گیا ہے۔

Photo: INN

تصویر: آئی این این

رپورٹ کے مطا بق گوگل نے کمپنی کے کی نوٹ ایڈریس کے دوران ایک انجینئر کے فلسطینیوں کی مزاحمت میں احتجاج کرنے کے کیلئے معطل کر دیا ہے۔ وائرل ہوئے ویڈیو میں گوگل کے کلاؤڈ کے ملازم کو چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ’’میں نے ایسی ٹیکنالوجی بنانے سے انکارکر دیا جو نسل کشی، حراست یا دیگر چیزوں کو طاقت بخشے۔ گوگل کے ملازم نے اس وقت فلسطین کی حمایت میں احتجاج کیا جب گوگل اسرائیل کے چیف بارک ریگیو پیر کو انڈسٹری کی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ جب انہیں سیکوریٹی علاقے سے باہر نکال رہی تھی تو وہ کہہ رہے تھے ’’پروجیکٹ نمبس فلسطینی طبقے کے ممبران کیلئے خطرہ ہے۔‘‘
گوگل کے ترجمان نے میڈیا کوبتایا کہا کہ ملازم کو کمپنی کی جانب سے اسپانسر کئے گئے پروگرام میں مداخلت کرنے کیلئے معطل کیا گیا ہے۔ اس کا مزاج باکل بھی درست نہیں تھا اور اس نے ہماری پالسیوں کی خلاف ورزی کی۔  تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ملازم نے کون سی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔

گوگل کے ۶۰۰؍ ملازمین کا کمپنی کو خط

ٹیک فوکسڈ وائرڈ نیوز ویب سائٹ کے مطابق، اس ہفتے، گوگل کے۶۰۰ ؍ سے زائد ملازمین نے گوگل کی مارکیٹنگ قیادت کو داخلی خط لکھا جس میں ٹیک کمپنی سے ’’مائنڈ دی ٹیک فارم‘‘ کی اسپانسرشپ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ یہ اجتماع ایک تقریب تھی جس کا مقصد اسرائیلی ٹیک انڈسٹری میں پیش رفت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس خط میں ملازمین نے لکھا ہے کہ مائنڈ دی ٹیک سے اسپانسرشپ ختم کر دیں اور گوگلرز اور صارفین کے ساتھ کھڑے رہیں جو غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے نقصان پر مایوس ہیں۔

پروجیکٹ نمبس
پروجیکٹ نمبس کی فلسطینی حامی وکیلوں نے ہمیشہ سے مذمت کی ہے جن میں گوگل کے ملازمین بھی شامل ہیں۔ اس پروجیکٹ میں ایک ملین ڈالر سے زائد کا گوگل، امیزون اور اسرائیلی حکومت اور فوج کے درمیان معاہدہ شامل ہے تاکہ تل ابیب کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ خدمات مہیا کی جا سکے۔
۲۰۲۱ء کا گوگل اور امیزون کے ملازمین کی جانب سےخط دی گارڈین میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے اس پروجیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’یہ پروجیکٹ اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے منظم طریقے سے فلسطینیوں کے درمیان امتیازی سلوک اور نقل مکانی کو اور بھی مہلک اور ظالمانہ بنا دے گا۔اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فلسطینیوں کی نگرانی اور غیر قانونی ڈیٹا کلیکشن مزید ممکن ہو جائے گااور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی غیر قانونی نوآبادکاری کو مزید آسان بنا دے گا۔
اس خط پر گوگل کے ۹۰؍ جبکہ امیزون کے ۳۰۰؍ ملازمین نے دستخط کی تھی۔ ہم جس پروجیکٹ کو تیار کر رہے ہیں اس کے ذریعے فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جائے گا، انہیں اپنے بے گھر ہونے پر مجبور کیا جائے گا اور ان پر حملہ کرنا آسان ہو جائے گا۔غزہ میں اسرائیل کے مسلسل حملوں کے بعد کمپنیوں میں اس طرح کے مطالبات بڑھنے لگے ہیں۔

اسرائیل کی غزہ میں مسلسل کاررروائیاں
خیال رہے کہ محصور غزہ میں اسرائیل کی جاری جنگ نے ۳۰؍ ہزار ، ۸۰۰؍ فلسطینیوں کو ہلاک جبکہ ۷۳؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جاں بحق کر دیا ہے۔غزہ میں تباہی ہے اور فلسطینیوں کو روزانہ کی بنیاد پر صاف پانی، غذا اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسرائیل نے سرحدیں بند کر دی ہیں جس کے سبب غزہ میں انسانی امداد کی رسائی نا ممکن ہو گئی ہے اور غزہ میں ۷؍لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو بھکمری کا سامنا ہے۔یو این کے مطابق غزہ کی ۸۵؍ فیصد آبادی بے گھر ہو گئی ہےجبکہ خطے کا ۶۰؍ فیصد ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *