April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

چینی صدر شی جن پنگ کےکچھ مہینوں پہلے اسلام کو چینی ثقافت میں ڈھالنے کے بیا ن کے بعداب کمیونسٹ پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وہی بیان دہرایا۔ چین پر پہلے ہی دہشت گردی اور اسلامی انتہا پسندی کو ختم کرنے کے نام پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیرو کاروں سے بھی کمیونسٹ پارٹی سے وفاداری کے اظہار کا مطالبہ۔

Photo: INN

تصویر: آئی این این

سنکیانگ صوبہ جہاں مسلم آبادی کی اکثریت ہے، کمیونسٹ پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے جمعرات کو کہا کہ خطے میں ’’اسلام کو چینی ثقافت میں ڈھالنا‘‘ ناگزیر ہے۔ یہ تبصرہ پارٹی کے سینئر عہدیدار ما زنگروئی نے سنکیانگ کے دورے کے دوران صدر شی جن پنگ کی جانب سے ’’اسلام کے سینی کائزیشن ‘‘(چینی ثقافت میں ڈھالنا، چینی ثقافت کا غلبہ) کو فروغ دینے کے مطالبے کے چھ ماہ بعد کیا ہے۔ سینی کائزیشن سے مراد غیر چینی معاشروں یا گروہوں کا چینی ثقافت میں ضم ہونے کا عمل ہے جس کا حتمی مقصد چینی ثقافتی، نظریاتی اور نسلی اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ 
ما زنگروئی جو پہلے گوانگ ڈونگ صوبے کے گورنر تھے، کو ۲۰۲۱ءمیں سنکیانگ میں انتظامیہ کی سربراہی کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں صدر شی جن پنگ نے بارہا دیگر مذہبوں کے سینی کائزیشن پر زور دیا ہےجس میں سلام، بدھ مت، اور عیسائیت شامل ہیں اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرنے پراستفسار کیاہے۔ 
 چینی حکومت پر شمال مغربی علاقے میں جسے چین دہشت گردی اور اسلامی انتہا پسندی کے طور پر گردانتا ہے اس کے خلاف طویل عرصے سے جاری مہم کیلئے چین پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ 
 اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کی ۲۰۲۲ءکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ میں ’’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ ‘‘ بین الاقوامی تنقید اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود، علاقائی حکام ثقافتی نسل کشی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہیں اور اس خطے کو غیر ملکی سیاحت اور سرمایہ کاری کیلئے آزاد قرار دیتے ہیں۔ 
علاقائی حکام کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۳ءمیں ۴؍ ہزار ۳۹۰؍ سے زائد غیر ملکیوں نے سنکیانگ کا دورہ کیا، اور اس خطے نے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو اب ۴ء۶۴؍ ملین کلوواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم، سنکیانگ کی سولر سیل کی پیداوار کیلئے ایک بڑے اڈے کے طور پر شہرت کو جبری مشقت کے الزامات سے داغدار کیا گیا ہے۔ 
 ہیومن رائٹس واچ کی نومبر ۲۰۲۳ء کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی حکومت کی مساجد کی تالا بندی کی مہم، جو پہلے سنکیانگ میں کی جا رہی تھی، اب خود مختار علاقے ننگزیا اور گانسو صوبے تک پھیل گئی ہے، جہاں ’’ہوئی‘‘ مسلمان آباد ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *