April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

پاکستان میں ۸؍ فروری کو ہوئے عام انتخابات کے بعد ۱۷؍ فروری کو ملک بھر میں ایکس (ٹویٹر) معطل کردیا گیا تھا۔ اس وقت بھی ایمنسٹی نے اسے اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کا عمل قرار دیا تھا۔ پاکستان میں ایکس بلاک کا آج ۲۹؍ واں دن ہے۔

Shaebhaz Sharif. Photo: INN

شہباز شریف۔ تصویر : آئی این این

حقوق انسانی کے نگراں ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو فوری طور پر بحال کرے، جو ۸؍ فروری کو عام انتخابات کے انعقاد کے بعد ۱۷؍ فروری سے ملک میں بلاک ہے۔
پاکستانی حکام پر زور دیتے ہوئے کہ ملک کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کے تحت اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حقوق کو برقرار رکھا جائے۔ برطانیہ میں قائم این جی او نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ سول سوسائٹی کی ان ۲۸؍ تنظیموں میں سے ایک ہے جنہوں نے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ مشترکہ بیان میں ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بلاک کئے جانے کے ۲۹؍ دن بعد فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ سمیت ۲۸؍ تنظیموں کی جانب سے دستخط کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھاریٹی (پی ٹی اے) کی مکمل خاموشی انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ وہ اپنے اقدامات کی کوئی وجہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور پورے انٹرنیٹ پلیٹ فارم کو بلاک کرنے کے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔‘‘ اس میں پاکستان پریس فاؤنڈیشن، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان بار کونسل بھی شامل ہیں۔
۸؍ فروری کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی طرف سے دن بھر موبائل انٹرنیٹ سروسیز معطل کرنے کے فیصلے کو ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کو ’’آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کے حقوق پر دو ٹوک حملہ‘‘ قرار دیا تھا۔
نہ تو پچھلی نگراں حکومت اور نہ ہی نئے وزیر اعظم شہباز شریف کی انتظامیہ کوئی وجہ بتانے کو تیار ہے کہ ملک میں اتنے طویل عرصے تک ایکس کومعطل کیوں کیا گیا ہے۔
اگرچہ اس طرح کے فیصلوں کو عام طور پر کسی نہ کسی بہانے حکام کی طرف سے سرکاری طور پر جائز قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس بار حکومت کے پاس کوئی وضاحت نہیں ہے کہ وہ صارفین کو ایکس تک رسائی کیوں نہیں دے رہی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھاریٹی ملک میں انٹرنیٹ تک رسائی کو منظم کرتی ہے۔ تاہم، پی ٹی اے اس بات سے صاف انکار کرتا ہے کہ ملک میں ایکس بلاک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *