April 17, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

چندگھنٹوں بعد لاشیں اٹھانے کیلئے پہنچنے والوں کو بھی نشانہ بنایاگیا، ۱۵۰؍ زخمی۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر : آئی این این

ظالم اسرائیلی فوجوں نے جمعہ کو پھر غزہ میں امداد کے منتظر ان افراد کو نشانہ بنایا جو اپنا اپنے بھوکے بچوں  کے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر امداد کے حصول کئے کویتی چوراہے پر قطار میں کھڑے تھے۔ جمعہ کے حملے میں حالانکہ ایک ہی شخص شہید ہوا ہے مگر ایک دن قبل جمعرات کو اسی جگہ کی گئی فائرنگ میں ۲۰؍ افراد شہید ہوئے۔ زخمی ہونےوالوں کی تعداد ۱۵۵؍ بتائی گئی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے کویتی چوراہے پرہیلی کاپٹر سے کی گئی فائرنگ کے تعلق سے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ یہ’’اسرائیل کا نیا اور زیادہ دل دہلادینے والے قتل عام ‘‘کی حکمت عملی مظہر ہے۔ 
اس بیچ قدس نیوز نیٹورک نے ایکس پوسٹ کرکے بتایا ہے کہ کویتی چوراہے پر جمعرات کی شام امداد کے انتظار کے دوران مارے گئے بھوکے فلسطینیوں کی لاشیں   لینے کیلئے پہنچنے والوں کو بھی یہودی فورسیز نے نشانہ بنایا۔ قدس نیوز نیٹ ورک نے اس کا ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جو محمود عیسیٰ نامی فلسطینی شہری نے ریکارڈ کرلیا تھا۔ واضح رہے کہ ۲۹؍ فروری کے بعد سے اسرائیلی فوجیں غزہ میں  بار بار اُن فلسطینیوں  کو نشانہ بنا رہی ہیں جو بھکمری کے دہانے پر ہیں اور عالمی غذائی امداد کے حصول کیلئے در در بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ 
 غزہ میں فاقہ کشی کا شکار فلسطینیوں کے قتل کیلئے براہ راست امریکہ اور جو بائیڈن انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حماس نے کہا ہے کہ تل ابیب کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونا اسے ہری جھنڈی دکھانے کے مترادف ہے۔ 
جنگ بندی کیلئے حماس کی  شرط
غزہ میں جنگ بندی کیلئے حماس نے جمعہ کو اپنی جانب سے شرائط پیش کر دیں جن میں یرغمالوں کی رہائی کے بدلے ۷۰۰؍ سے ایک ہزار تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ شامل ہے۔ ان میں ۱۰۰؍ سے زائد وہ قیدی ہیں جنہیں اسرائیل نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ حماس کا مطالبہ ہے کہ معاہدہ مستقل جنگ بندی کا ہونا چاہئے۔ تازہ تجاویز میں اس نے قیدیوں اور یرغمالوں کے ابتدائی تبادلہ کے بعد مستقل جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوجوں کی واپسی کی تاریخ طے کرنے کا مطالبہ بھی شامل کیا ہے۔ 

 رفح پر فوج کشی کی تیاری
اس بیچ عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل نے رفح میں فوج کشی کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ عام شہریوں کو نقصان پہنچنے کے عالمی برادری کے اندیشوں کا جواب دیتے ہوئے تل ابیب  نے کہا ہے کہ وہ رفح  پر زمینی حملے سے قبل  یہاں موجود ۱۵؍ لاکھ پناگزینوں جنوب کی  جانب دھکیل دینے کی حکمت عملی  اپنائےگا۔اس نے اسے ’’انسانی جزیرہ‘‘ کا نام دیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *