April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/deborrah-k.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

۷؍ اکتوبر سے جاری حملوں  میں  تل ابیب جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ۱۵۷؍مراکز کو نشانہ بنا چکاہے۔

Palestinians can be seen struggling to get aid. Photo: PTI

جنگ سے متعلق عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے بدھ کو رفح میں  اقوام متحدہ کے امدادی مرکز کو نشانہ بنایا جس میں ۵؍ افراد شہید اور درجنوں  زخمی ہوگئے۔ یہ وہ مرکز ہے جہاں  سے پورے غزہ سے بے گھر ہوکر رفح پہنچنے والےاُن مظلوم فلسطینیوں   میں  غذائی اشیاء تقسیم کی جاتی ہیں  جو بھکمری کے دہانے پر ہیں۔ 
اس سے قبل اسرائیلی فوجیں ۲۹؍ فروری اوراس کے بعد سے امداد کے منتظر افراد کو نشانہ بنا کر ۴۰۰؍ سے زائد کو شہید کرچکاہے۔ ا س سلسلے میں  ہونےو الی عالمی مذمت کو بھی تل ابیب خاطر میں  لانے کو تیار نہیں ہے۔ فلسطینی رفیوجیوں  کیلئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کی ایجنسی ’یواین ریلیف اینڈورک ایجنسی برائے فلسطین ‘ نے حملے کی تصدیق کی ہے۔ ا ندیشہ ہے کہ اس حملے میں   جانی نقصان کے ساتھ ہی وہ امدادی سا مان تباہ ہوگیاہے جو بے بس فلسطینیوں  میں  تقسیم کیلئے دنیا بھر سے پہنچا تھا۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی کی ترجمان جولیٹ ٹوما نے کہا کہ ’’ہم اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ رفح میں یو این ریلیف اینڈورک ایجنسی برائے فلسطین کے ویئر ہاؤس/ تقسیم کے مرکز پر حملہ کیاگیاہے۔ ‘‘ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حملے میں   ۵؍ افراد شہید اور درجنوں  زخمی ہوئے ہیں۔ 
یواین ریلیف اینڈورک ایجنسی برائے فلسطین نے بتایا کہ ۷؍ اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی حملوں   میں   اُس کے ۱۵۷؍ مراکز کو نشانہ بنایا جاچکاہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عالمی قوانین کے تحت جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے مراکز کو تحفظ حاصل ہوتاہے اورانہیں نشانہ نہیں  بنایا جانا چاہئے۔ ایجنسی کے مطابق جنگ میں   اسے ۱۶۲؍ اراکین مارے جاچکے ہیں۔ 
واضح رہے کہ ’یواین ریلیف اینڈورک ایجنسی برائے فلسطین ‘ اسرائیل کی ظالمانہ جنگ کے دوران فلسطینیوں  کو غذائی امداد پہنچانے میں  کلیدی رول ادا کر رہی ہے۔ ان الزامات کے بیچ کہ اسرائیل غزہ کے شہریوں   کے خلاف بھکمری کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے، صہیونی ریاست ’یواین ریلیف اینڈورک ایجنسی برائے فلسطین ‘ کو بند کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس نے اس کا جواز ایجنسی کے چند  اراکین پر ۷؍ا کتوبر کے حماس کے حملے میں  شامل ہونے کا الزام عائد کرکے فراہم کیا ہے۔ اس کے اس الزام کی وجہ سے امریکہ سمیت ۱۰؍ بڑے ملکوں  نے مذکورہ فلسطینیوں  کو امداد فراہم کرنے کیلئے مذکورہ ایجنسی کو فنڈ دینے کا سلسلہ روک دیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *